عمرہ کی سعادت اور زیارت مقامات مقدسہ

عمرہ کی سعادت اور زیارت مقامات مقدسہ

Table of Contents

تحریر:

ارم  جہاں

سفر عمرہ
(۲۰۲۰)

روانگی

اللّہ اللّہ کر کے وہ مبارک گھڑی آگئی جب عمرہ کی سعادت  کیلئیے ہماری روانگی استنبول ائر پورٹ سے مدینہ المنورہ کیلئیے تیار تھی۔ دل خوشی سے بیتاب تھا ۔ ۷۷۷ میں ۳۰۰ مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے مگر حالات کے پیشِ نظر صرف ۶۱مسافروں کو لیکر یہ پرواز مدینہ المنورہ کی جانب رختِ سفر ہوئی ۔ تین گھنٹوں کی مسافت اور درود و سلام کے ورد کے ساتھ ساتھ  ہم مدینہ المنورہ کے پرنس محمد بن عبد اللّہ ائر پورٹ پر پہنچ گئے ۔ امیگریشن پرخواتین عملہ بھی موجود تھا جو باحجاب اور نقاب کے ساتھ ملبوس بہت مستعدی سے اپنی ذمہ داریاں

نبھانے میں مصروف تھا ۔دیکھ کر اچھا لگا کہ ملکی ترقی کی لئے اب سعودی خواتین بھی کسی سے پیچھےنہیں ۔

امیگریشن پر انتہائی سخت ترین جانچ پڑتال اور سب مسافروں کے ٹیمپریچر ز اور حفاظتی ٹیکوں کا ریکارڈبھی چیک کیا گیا ۔

قیام شہر مدینہ صلی اللّہ علیہ وسلم

اور آخرِکار ہم کو نبی صلی اللّہ علیہ وسلم کے مبارک شہر میں داخلے کی اجازت ملی ۔شکر الحمدللّٰہ ! دھڑکتے دل اور لرزتے قدموں سے ائر پورٹ
سے باہر نکلے تو رات کے ۱۲-۱ بجے کا ٹائم تھا اور حسین پاکیزہ فضاوں اورمہکتی ہواؤں نے ہمارا استقبالکیا ۔ میرے بنی صلی اللٍّہ علیہ وسلم کا شہر مجھے خوش آمدید کہ رہا تھا ۔رگ و پے میں جیسے سکون وطمانیت کی کئی لہریں سی اتر گئیں ۔  زبان پر درود و سلام کا تحفہ سجائے ٹیکسی کے زریعے مدینہ شہرمسجد نبوی صلی اللّہ علیہ وسلم کی جانب رواں دواں ہوئے ۔اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا تھا ۔سڑکوں سے گزرتے ، صحرا کو دیکھتے ، وہاں بنے ریت کے ٹیلوں کوتکتے، یہ خیال بارہا ذہن سے گزرا کہ یہوہی گلیاں ہیں جہاں نبی پاک صلی اللّہ علیہ وسلم قدم رنجہ رہے ، ریت کے ان زرات کو بھی نبی کے قدمِمبارک کو چھونے کی سعادت ملی ہوگی ، ان ہی زرات میں وہ پسینہ مبارک بھی جذب ہوا ہوگا جو غزوۂ خندقکی کھدائی کے دوران ٹپکا ہوگا اور مدینہ کی سرزمین نے ہیرے و موتی کی مانند ان کو اپنے اندر چھپا لیاہوگا ۔ان نخلستان میں لگے کھجور کے درختوں کی بزرگ نسلوں اور آباؤ اجداد نے وہ پھل دئیے ہونگے جن کومیرے نبی نے نظر التفات بخشی اور ان کو تناول فرمایا ہوگا تو ان کی افادیت اور اہمیت میں اضافہ ہوگیا ۔احد کا خوش قسمت پہاڑ، صدیوں سے ایستادہ ، مدینہ المنورہ میں میرے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم کے گزرےہر ہر لمحے کا شاہد اپنے وجود پہ نازاں ہے اس کو جنت میں داخلے کی خوش خبری جو مل چکی ہے ۔ میرےنبی کے وجود سے یہاں کا زرّہ زرّہ آفتاب و ماہ تاب بن گیا ۔ ٹیکسی سبک رفتاری سے آگے بڑھتی گئی اورمیرے دل و دماغ کی شمعیں اک اک کر کے روشن ہوتی گئیں ۔ منزلِ مقصود جو نزدیک آتی جارہی تھی ۔ دیارِنبی صلی اللّہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کونسا مقام اور دربارِ اعلی میں حاضر ی اور درود و سلام پیش کرنےسے زیادہ میری خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ میرے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم آپ پر لاکھوں کروڑوں درودوسلام ۔
umra

میرے قلم اور تخیل میں اتنی تاب نہیں کہ ان مقامات اور ان کی اہمیت کا اپنے الفاظ کے زریعے احاطہ کرسکوں ۔
وہ جگہ جہاں بڑے بڑوں کے قدم اور دل کانپتے ہیں ۔وہ متبرک مقام کہ جہاں کی خاک کو خاک شفا اور سرمۂچشم بنانے میں افتخار محسوس کیا جاتا ہے ۔

مسجدِ نبوی صلی اللّہ علیہ وسلم کے مینار پروقار اور گنبدِ خضری بے پناہ پرکشش اور محبت و عقیدت کامنبع ہیں ۔ جہاں ہمہ وقت انوار الہی اور اس کی رحمتوں کی بارش ہوتی رہتی ہے ۔

مدینہ المنورہ میں چار دن قیام رہا اور  وہی دن حاصلِ حیات تھے ۔ چاروں طرف درود وسلام کی پاکیزہ و پرنور صدائیں تھیں ۔ رحمت و برکت سے چُور  ٹھنڈی ہوائیں تھیں ۔ مسجد نبوی کے داخلی آہنی مضبوط دروازےمیں داخل ہوئی ۔ معطر فضائیں چاروں طرف چھائی ہوئی تھیں  ۔بڑے بڑے دالان ، نمازیوں کیلئے بچھے وسیعو عریض غالیچے،  دھوپ ، گرمی اور بارش سے بچاؤ کیلئے اس پر لگی بڑی بڑی چھتریاں ، تقدس ، احترام ،نفاست اور خوبصورتی وہاں کے انتظام میں  نمایاں تھی ۔

Umra Roza E Rasool SAWW
میں یہ دالان عبور کرتی ہوئی مسجد میں ایک انتہائی خوبصورت سنہری دروازے سے اندر  داخل ہوئی ۔ اوردھڑکتے دل اور درود و سلام کا ورد کرتے ہوئے ایک کونے میں  بیٹھنے سے پہلے تحیت المسجد کے دو رکات نمازپڑھی اور رب کا شکر ادا کیا کہ اس کا لاکھ لاکھ
شکر کہ نا چیز کو یہاں تک آنے کی سعادت بخشی ۔

درود کا ورد جاری رہا اور میری نگاہیں  نا قابل یقین کیفیت میں چاروں طرف کا جائزہ لیتی رہیں ۔ مسجد نبوی کی اونچی چھتیں نقش  و نگار سے مزئین  ، درو دیوار ، محراب دار خوبصورت قطار اندر قطارستون اس قدرمہارت اور ہم آہنگی  سے تعمیر کئیے گئے ہیں کہ عقل حیران رہ  جاتی ہے ۔
نماز میں ابھی کافی وقت باقی تھا ۔
تمام  نمازی جذب و عقیدت میں پور پور ڈوب کر ،
موقع اور محل سے اچھی طرح واقف اور ادب کے تقاضوں کوُملحوظِ  خاطر رکھتے ہوئے عبادت میں مگن تھے ۔کچھ نماز کے انتظار میں نوافل پڑھ رہے تھے ، کچھ تسبیح ہاتھ میں لئیےاسماء حسنی اور  درود پاک کے وردمیں مشغول  ، کچھ ہاتھ دعائیہ اندازمیں اٹھائے ، آنکھوں سے اشکوں کا دریا بہاتے، دنیا و ما فیہاسے بےخبر  چپکے چپکے رب کے حضور مناجات میں مصروف  ، کچھ قرآن پاک کی تلاوت میں مدھم آواز سے مگن۔تقدس اور احترام سے نگاہیں جھکی جا رہی تھیں ۔ تھوڑی دیر بعد اذان ہوئی اور  پھرجماعت تیارہوگئی ۔

نماز پڑھنے کا ایسا لطف اور پھر یہ خیال بھی دامن گیر  کہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کا روزہ اطہرمیں اس اذان اور نماز کے شاہد ہیں ۔ امام صاحب کی رقت آمیز تلاوت کا ایک ایک لفظ دل پہ اتر رہا تھا ۔انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھائی گئی اور پھر مغفرت ، دنیا و آخرت کی بھلائی اور امتِ مسلمہ کیلئے ڈھیروں دعائیں مانگی گئیں ۔


اس کے بعد کسی کی  نماز جنازہ کا اعلان ہوا  ۔
ہر نماز کے بعد ادا ہونیوالی نمازِ جنازہ زندگی کی بے ثباتی کی انتہائی شدت سے نشاندہی کرتی ہے اور یہی احساس جاگزین ہوتا ہے کہ کیا پتا اگلی نماز جنازہ ہماری ہو ؟ یہی جذبۂ خشیتِ الہی زندگی کی سب سےبڑی حقیقت یعنی موت کو آشکارا کرتی ہے ۔وحدانیت  ،حقیقتِ خود شناسی اور روح کی تطہیر  اسی سے وجودمیں آتی ہے ۔
جگہ جگہ پہ کم عمر لڑکیاں کے چھوٹے چھوٹے سے دائروں میں بیٹھی ہوئی اپنے اپنے سبق یاد کر رہی تھیں ۔
وہاں اسلامی تعلیمات دی جا رہی تھیں ۔ ہر عمر کی بچیاں ایک ایک  گھیرا بنائے اپنی استاد کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ۔ اور ان کی استاد باری باری سب کو بلا کر ان کا سبق سن رہی تھی ۔ یہاں مستقبل کی حافظائیں تیار ہو رہی تھیں ۔ ان تمام بچیوں کی قسمت پہ بے پناہ رشک آیا ۔ جہاں مدرسہ مسجدِ نبوی ہو تو ان کےطالب علموں  مقام اور مقدر  کی کیا ہی بات ہوگی
بچیوں کی صفیں مجھے اصحاب صفہ کی یاد دلاتی رہیں ۔ وہ صحابۂ کرام جن کی تربیت مسجد نبوی میں حضور اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں ہوئی تو ایسےتراشیدہ  چمکتے دمکتے ہیرے تیار ہوئے کہ چہار دانگِ عالم میں اپنے علم، فہم و فراست اور فتوحات سے اسلام اور اسلامی تعلیمات کا لوہا منوایا ۔ اور انکی بدولت کتنے ہی لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔عدالتیں بھی یہاں لگتی تھیں تو مالِ غنیمت بھی یہیں بٹتا تھا ۔بیت المال بھی یہیں قائم تھا تو صحابہ کی تربیت بھی یہی ہوتی تھی۔یہاں دنیا کی بہترین درسگاہ وجود میں آئی ۔

مسجد نبوی میں ہر رسم  الخط میں قرآن پاک کے نسخے موجود ہیں ۔ حتی کے نابینا افراد کیلئیے بریل کےنسخے بھی دستیاب ہیں ۔بزرگوں اور معذور لوگوں کیلئے آرام دہ کرسیوں کا وافر مقدار میں انتظام ہے ۔۔ زمزم کے ٹھنڈے اور معتدل پانی کے کولرز جابجا لگے ہوئے ہیں ۔ اے سی کا خودکار نظام  ، روشنی کیلئے بہت دیدہ زیب لیمپ ہر ستون کے چاروں طرف آویزاں ، دبیز غالیچے، اور ہمہ وقت صفائی کا بہترین انتظام تاکہ گرد  کےایک معمولی زرّہ سے بھی اس پاکیزہ جگہ کا تقدس پامال نہ ہوسکے ۔ یہ تو ہیں وہ ظاہری انتظامات ومعاملات جو انسانی آنکھ دیکھ رہی ہے ۔  روحانی طور پر یہاں کیا کیا نظام عمل پذیر ہیں ان کا احاطہ نہ توانسانی قوتِ تخیل کر سکتی ہے اور نہ ہی انسانی بصیرت و بصارت ان کی تاب لا سکتی ہے ۔ کتنے ہیفرشتے  مدینہ المنورہ کی حدود پر متعین ہیں اور رحمت للعالمین کے حضور و دربار کتنے جن و انس یہاںحاضری کیلئے موجود ہیں صرف اللّہ جانتے ہیں ۔اور ہم اس فہم و شعور سے ماورا ہیں ۔

۔ وقت کے ساتھ مسجد  کی تعمیرو توسیع  کے باعث صحابہ کرام ، انصار اور مہاجرین کے تمام گھر ابمسجد نبوی کے حصار میں آگئے ہیں ۔ جنت البقیع کا قبرستان جو کبھی مسجد نبوی سے باہر ہوا کرتا تھا اباس کی دیوار مسجد نبوی کے صحن سے ملحق ہے ۔

میں نے اشراق کے بعد روضہ رسول  میں حاضری کا شرف حاصل کیا ۔ تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کے صبر آزماانتظار کے بعد اجازت ملی ۔وہاں دنیا بھر سے آئی ہوئی عورتوں کا گروہ روضہ شریف کے آنگن میں بیٹھ کراپنی باری کا انتظار کرتا ہے ۔باری باری ہر دستہ کو اندر لیکر جایا جاتا ہے ۔ باری آنے پر ان کا گروہ دیوانہ وار دوڑتا ہے ۔  ان کی لگن اور شوق کا عالم قابلِ دید ہے۔ آخر کار میری بھی باری آہی گئی ۔
میں دربار رسالت صلی اللّہ علیہ وسلم میں کھڑی تھی ۔ میرے پاؤں کے نیچے ریاض الجنہ کا سبز غالیچہ تھا۔ میں ایک بار پھر غیر یقینی کیفیت میں گرفتار تھی ۔ اس تصور سے ہی روح فنا ہورہی تھی ۔ کہ کہاں یہ ناچیز وخاکسار اور کہاں یہ مقام اللّہ اللّہ ۔۔حضورِ اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں اورہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں ۔اور اپنے ہر امتی کو پہچانتے ہیں ۔

میں نے درود و سلام کا تحفہ پیش کیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ میری یہاں موجودگی سوائے اللّہکے کرم کے انعام کے اور کچھ نہ تھی ۔کافی دیر وہاں کھڑی آنسو بہاتی رہی ۔   آپ کی امت سے محبت پر آپکی خدمت میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتی رہی ۔ جس کسی نے سلام پہنچانے کا کہا تھا ان سب کا نام لیکر آپ صلی اللّہ علیہ  وسلم کی خدمت میں سلام پیش کیا گیا اور جس نے نہیں کہا تھا ان کی طرف سےبلکہ تمام امت مسلمہ کی جانب سے درود و سلام پیش کیا گیا ۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم اپنے دو پیارے  جانثار صحابیوں کے ساتھ آرام فرما ہیں ۔ابو بکر صدیقرضی اللّہ تعالی عنہ  وہ مشہورِ و ممتاز اور اہم صحابی جن کو  یار ِ غار ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔اعلی قدر صحابی کا مقام اس قدر اعلی و ارفع ہے کہ اللّہ تعالی نے حضرتِ جبرائیل کو زمین پر بھیجا اورسلام عرض کیا اور یہ معلوم کروایا کہ ابوبکر ! کیا تم ہم سے راضی ہو ۔۔؟؟
اللّہ اکبر کیا مقام ہے اس صحابئ رسول کا!!

حضرتِ عمر فاروق رضی اللّہ تعالی عنہ  جن کو پیارے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم نے اللّہ تعالی سے دعا ؤں میں مانگا۔ ان کا رعب و دبدبہ اور شجاعت  ایسی کہ شیطان بھی رستہ بدل لیتا تھا ۔ ان کے قبولِ اسلام کے بعدنماز کھلم کھلا پڑھی جانے لگی ۔ عدل و انصاف کے پیکر ۔

Umra Roza E Rasool SAWW
کیا خوش نصیبی ہے ان اصحاب کی کہ زندگی میں بھی سایہ بن کر ساتھ رہے اور دنیا سے پردہ فرمانے کےبعد بھی ساتھ ساتھ ہیں ۔ ۔ اللّہ تعالی ان کی تربت پر خوب خوب رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیے آمین ثمہ آمین۔

ریاض الجنہ ، جو جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے ، اس گوشے کے ستون سنہری مینا کاری کے کام سےمزئین ہیں اور دیواروں ، گنبدوں پہ قرآنی آیات آویزاں ہیں اور پاکستان اس لحاظ سے اپنے نصیبوں پہ جتنا نازکرے کم ہے کہ کیونکہ یہ خطاطی کا یہ اعزاز ایک پاکستانی خطاط شفیق الزماں  کو حاصل ہے ۔ روضہ مبارک کی سنہری جالیاں قرآن پاک کی آیات سے سجی ہوئی ہیں ۔

میں نے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کئیے اور دوبارہ سلام پیش کرتی ہوئی باہر چلی آئی ۔

شکر الحمد للّٰہ ۔۔۔کہ اس نے رحمت للعالمین،  محسنِ انسانیت ،شافع محشر اور ساقئ کوثر حضرت محمدصلی اللّہ علیہ وسلم  کے دربار میں درود و سلام پیش کرنے کی سعادت  عطا فرمائی ۔اللّہ تعالی سے دعا ہےکہ وہ روزِ قیامت ہم کو شفاعت ِ حضوزِ اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم عطا فرمائیں اور ہمارے گناہوں کو نیکیوںمیں بدل دیں ۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور رستہ نہیں کہ ہماری بخشش وجود میں آسکے اور یہشفاعتِ رسول صلی  اللّہ علیہ وسلم اور اللّہ کی رحمت کے باعث ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے ورنہ اعمال تو اسقابل نہیں ۔

تہجد کی میں وہاں جانا اور فجر پڑھ کر واپسی کرنا ، ظہر کے بعد دوپہر کا کھانا اور نمازِ عصر کے وقتمسجد نبوی جانا اور عشا کے بعد واپسی کرنا ۔ ایک حسین معمو ل بن گیا تھا ۔دل چاہ رہا تھا کہ باقی ماندہ زندگی بس اسی معمول میں بسر  ہوجائے ۔

جنت البقیع

جنت البقیع کا قبرستان تمام مسلمانان کیلئے محورِ عقیدت و محبت ہے ۔یہ قطعۂ زمین اسلام کی نامورشخصیات کے وجود کو اپنے اندر پنہاں کئے بقعۂ نور ہے ۔ وہ تمام لعل و گہر، لولو و مرجان و یاقوت یہاں دفن ہیں جن کی کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت آج اسلام ہم تک پہنچا ہے ۔ تمام اہلِ بیت ، صحابۂ اور صحابیہ کرام ،اسلام کے وہ تمام مایہ ناز سپوت اور وہ سب خوش نصیب مرحومین جو اس مبارک زمین میں دفن ہیں ۔قبرستان کی حدود کے باہر سے سب کیلئے دعا کی کہ اللّہ تعالی آپ سب کی لحد کو جنت کے باغات میں سےاک باغ بنادے ، آپ سب کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ ہم بھی آپ سے جلد ہی ملنے والےہیں ان شا اللّہ ۔
زیارتیں ۔

آپ مدینہ المنورہ میں ہوں تو آپ کا دل ان تمام زیارتوں کو دیکھنے کیلئے ہمکتا ہے جو ہمارے نبی صلی اللّہعلیہ وسلم اور اہل بیت سے منسوب ہیں ۔

مشہور مقامات کی زیارتیں

مدینہ المنورہ میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ حکومت سیاحت کو فروغ دے رہی ہے اس بات کا اندازہ اس بات سےلگایا کہ مسجد نبوی سے باہر نکلتے ہی ایک بس اسٹاپ نظر آیا جہاں دو منزلہ بسیں کھڑی ہوئی تھیں ۔ معلومکرنے پر پتا چلا کہ مدینہ المنورہ کے مشہور مقامات کی زیارتوں کیلئے یہ سہولت مہیا کی گئی ہے ۔ یہ سن کرجیسے دل کی کلی کھل سی گئی ۔ ہم نے بھی ٹکٹ لیا اور بس میں سوار ہوگئے ۔ان زیارتوں میں مشہورمساجد جیسے مسجد علی ، مسجد الجمعہ ، مسجد  غمامہ، مسجد قبلتین اور سب سے اہم مسجد قبا ،کنویں  مثلاً بئر عثمان اور ان کے باغات ، گلیاں ، محلے ، جبل احد ،غزوۂ خندق اور غزوۂ احد کے مقامات اورحضرت حمزہ رضی اللّہ تعالی کی قبر مبارک اور ان شہداء کی قبریں جو جنگ احد میں  شہید ہوئے، جدیدمدینہ شہر ، وہاں کے بازار اور مغربی طرز تعمیر کے مال ، مدینہ اسلامی  یونیورسٹی ، حجاز ریلوے اسٹیشن جو ترکی کے دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ دار المدینہ میوزئیم ، کنگ فہد پرنٹنگ پریس اور الحرمین کاجدید اور سریع ترین ریلوے اسٹیشن جس کی وجہ سے مکہ اور مدینہ کی مسافت میں خاطر خواہ کمی واقعہوئی ہے اور  دیگر کئی مقامات شامل تھے ۔ مزار حضرت حمزہ رضی اللّہ تعالی عنہ کے مقام اور شہدائےاحد کو سلام پیش کیا اور فاتحہ پڑھی اور واپس آگئے ۔

مدینہ المنورہ سے رخصتی

مدینہ المنورہ سے رخصتی  کوئی آسان عمل نہیں ۔ مگر تسلی اور ڈھارس اس بات کی تھی کہ اگلی منزل مکہ المکرمہ تھی ۔ پیارے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم کو سلام و درود پیش کرنے کو بعد ان  سے نم آنکھوں کے ساتھرخصت چاہی اس دعا اور امید کے ساتھ کہ اللّہ تعالی ہم کو بار بار اس شہرِ مقدس میں اپنی آل اولاد کےساتھ لیکر آئے اور ہم دونوں جہاں کی رحمتیں اور بر کتیں اپنے دامن میں بھر بھر کر لیکر جائیں ۔جہاں مکہالمکرمہ جانے کی یک گونہ خوشی تھی تو وہاں روضۂ رسول صلی اللّہ علیہ وسلم سے جدائی کا غم بھی دامن گیر  تھا ۔
صبح گیارہ بجے کے قریب مدینہ المنورہ سے بوجھل دل کے ساتھ درود و سلام پڑھتے رخصت ہوئے ۔میقات سےاحرام باندھا اور تلبیہ  پڑھتے مکہ المکرمہ روانہ ہوئے۔

مکہ المکرمہ روانگی

Umra Makkah Shareef /Milao Haath

شہر مکہ کی حدود شروع ہوئی تو جان میں جان آئی ۔ حرم المکرم کے مینار نظر آنا شروع ہوگئے تھے ۔ تلبیہ اور چوتھے کلمے کی گردان لبوں پر تھی اور آنکھوں میں آنسو ۔
خواب و سراب کی درمیانی  کیفیت میں جائزہ لیتی ہوئی نظروں سے اپنے آپ کو یقین دلا یا کہ میں واقعی میںاس بلد الامین میں داخل ہو چکی ہوں ۔

شام ۴ بجے ٹیکسی حرم کے سامنے رکی ۔
ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد سیدھے حرم پہنچے ۔ سامنے کعبہ اللّہ تھا ۔۔ نا قابلِ یقین منظر ۔ ہزاروں میلکی دوری سے بالآخر میرے رب نے مجھے اس پاک مقام تک پہنچا ہی دیا تھا۔ عجیب ہی سرور و انبساط کیسی کیفیت تھی ۔ میرا رب ان حالات میں مجھے یہاں تک لے آیا یہ کسی معجزے سی کم نہ تھا ۔ عمرہ شروع کیا اور اللّہ کے فضل و کرم سے دو ڈھائی گھنٹے میں اس کی ادائیگی سے فارغ ہوگئے ۔ اللّہ کا لاکھ لاکھشکر ادا کیا کہ اس نے عمرہ کی سعادت نصیب کی ، حطیم میں جی بھر کے نوافل ادا کر لئیے ۔ میزابِ رحمتکے نیچے، غلافَِ کعبہ پکڑ کر رو رو کر مناجاتیں کیں ، مقام ابراہیم پر بھی خوب دعائیں مانگیں۔ میرا رب اپنےرحم و کرم کے خزانے لٹاتا رہا اور ہم ان کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹتے رہے ۔

رش بہت کم تھا مگر پھر بھی زائرین  کا ایک قابلِ ذکر اژدھام  وہاں موجود تھا ۔ جی بھر کے زمزم پیا اور اپنی جسم و روح کو سیراب کیا۔ یوں  لگ رہا تھا کہ مجھ سا خوش نصیب کوئی نہیں ۔میرے پیر زمین پر نہیں ٹکرہے تھے ۔ ایک ان دیکھے توانائی اور بشاشت وجود میں بھر گئی تھی ۔ دل و دماغ میں بس یہی خیال تھا کہ۴دن کا قیام ہے اور ان دنوں کے ہر ہر پل کو قیمتی جانتے ہوئے لگ کر عبادت کرنی ہے ۔ روز ایک عمرہ ادا کرناہے اور ان شا اللّہ تعالی ہر نماز کے بعد طواف ضرور کرنا ہے اپنے والدین ، بزرگوں اور ان عزیز و اقرباکیلئےجو یہاں تک آنے سے قاصر ہیں۔

zamzam water/Umra Makkah Shareef /Milao Haath Recipients with zamzam water in the mosque of Prophet Muhammad in the city of Medina Saudi Arabia. Ramadan

دعاؤں کا خزانہ

ہر ایک رشتہ دار ، دوست ، احباب اور ان کے بچوں کے ناموں اور دعاؤں کی فہرست ساتھ تھی کہ سب کیلئیےسب کچھ مانگنا ہے ہو سکتا ہے کہ اللّہ تعالی اس عمل سے ہی خوش ہوکے ہم کو وہ سب بھی نواز دے جوابھی تک دلوں میں ہی پوشیدہ ہے اور زبان تک آنے سے قاصر ہے اللّہ تعالی کی نوازی ہوئی تمام نعمتوں کالاکھ لاکھ شکر اور ان کی حفاظت ،بھلائی ، خیر و برکت درکار ہے۔ اب اپنی مغفرت ، خاتمہ بالخیر اور اولادکی بھلائی  مانگنی ہے ۔ قبر کی ٹھنڈی مٹی، حضور اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدارانور اور روزقیامت ان کی شفاعت مانگنی ہے ۔

کس قدر خوبصورت بات ہے کہ اللّہ تعالی نے امت مسلمہ کو دعاؤں کی لڑی میں پرو کر سب کو عافیت بخشدی ہے اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے ۔ ماں باپ کی بخشش اور مغفرت سے دعا شروع ہوکر اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی اور پھر اولاد کی عافیت ، اصلاح ، ہمیشہ صراطِ مستقیم پہ گامزن اور ان کی اولادمیں سے متقیوں کے امام بننے کی دعا ۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی کی دعا ۔میرا وجود بھی رب ارحمہما کماربینی صغیرہ اور واصلح لی فی ذریتی میں ڈول رہا تھا ۔ ربنا اتنا کی گردان تھی تو عفو کریم کی تسبیحات تھیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں ہم کہ ہمارے پاس دعاؤں کا خزانہ ہے اور دعائیں اور دعائیں قبول کرنے والاانتظار میں بیٹھا ہے ۔
شکر الحمدللّٰہ ۔

عمرہ کی ادائیگی

دوسرے دن ظہر کی نماز کی ادائیگی کے بعد عمرہ کا پروگرام تھا ۔ جب ہم احرام باندھ کر مسجدِ عائشہ سےواپس آئے تو دیکھا حرم کے داخلی دروازوں پر پہریدارکھڑے تھے جو اندر جانے والوں کو روک کر اوپر جانےوالے زینہ کے طرف اشارہ کر رہے تھے ۔ ہم سمجھے کہ کوئی خاص مہمان آرہا ہے کیونکہ یہ وہاں کا خاص معمول ہے کہ جب بھی کوئی خاص ہستی یا کوئی سربراہِ مملکت حرم میں تشریف لاتا ہے  تو اس کےپروٹوکول کے خاطر عوام کو پیچھے ہٹا کر رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں تاکہ ان کو خانۂ کعبہ کر اندر لےجایا جا سکے اور انکی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ اس دن بھی کچھ ایساہی معاملہ لگ رہا تھا۔ ہم بھی سب کی دیکھا دیکھی اوپری رستے کی طرف بڑھ گئے اور طواف کی شروعات شوق و ذوق ،لگن اور خوب جاں فشانی سے کردیں ۔ دورانِ طواف گاہے بگاہے نیچے صحن میں نگاہ بھی ڈال لیتے تھے کہ کب یہ رکاوٹیں ہٹائیں تو ہم نیچے جا کر عبادت کا سلسلہ شروع کریں کیونکہ اوپری منزل سے طواف کرنا ایک جدوجہد اور  کار مسلسل ہے اور نیچے صحن میں آسانی سے کم فاصلہ طے کرتے ہوئے جلدی طواف مکمل ہوجاتا ہے ۔ خیرکوئی دو گھنٹے سے زیادہ کے عرصے میں طواف کی تکمیل ہوئی تو تھوڑی دیر سستانے بیٹھ گئے ۔ عصر کےاذان ہو چکی تھی تو ارادہ یہی تھا کہ نمازِعصر پڑھنے کے بعد سعی کا رکن ادا کیا جائیگا اور دوسرا عمرہبھی اپنے اختتام کو پہنچے گا ۔

بعد نمازِ عصر جونہی سعی کے مقام کی طرف قدم بڑھائے تو وہاں داخلی دروازوں پر متعین پہریداروں نے ہمکو آگے جا نے سے منع کردیا اور کہا کہ عمرہ خلاص ۔ یہ جواب بہت حیران کن اور ششدرکر دینے والا تھا  ۔کیا مطلب ہے عمرہ خلاص ؟ ہم حالتِ احرام میں ہیں ہم کو اس مذہبی واجب عبادت  کی تکمیل کرنی ہے بصورتِ دیگر ہم پر دم کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ انہوں نے ہماری ایک نہ سنی اور ہم کو حرم سے باہر جانے کا حکم دیدیا گیا ۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر تھی ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی اس طرح  ہماری عبادت کےآڑے آئے گا۔  یہاں تو ہم ہونگے، کعبہ اللّہ ہوگا، رب کریم کے قربت ہوگی اور ہماری دعائیں اور مناجا تیں  ۔ابھی تو حطیم کے اندر جاکر اور غلافِ کعبہ پکڑ کر اور بہت ساری دعائیں مانگنی ہیں۔ یہ ہم کو کیسے حرممیں عبادت سے روک سکتے ہیں ؟ یہ مسجد حرام ہے مسجدِ اقصی تو نہیں کہ یہاں پر قابض یہودی ہم کوعبادت سے آکر روک دیں ۔

Hateem zamzam water/Umra Makkah Shareef /Milao Haath

یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ آنکھوں میں غیر یقینی کیفیت تھی ۔ اللّہ جانے یہ خواب تھا یا حقیقت ۔ میں کیا دیکھرہی ہوں ؟ کیا سن رہی ہوں ؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
وہ سارا انبساط اور سرور جو میری ہستی پہ چھایا ہوا تھا وہ چشم زدن میں چکنا چور اور کافور ہوگیا ۔میرے خدشے سچ ثابت ہورہے تھے کہ اگر ایسا کچھ ہوگیا تو ۔۔؟؟

یہ واقعی معجزوں کی سر زمین ہے ۔ پل بھر میں نزدیک کی منزلوں کو کوسوں دور کر دیا جاتا ہے اور جو دورہے وہ پاس لا کر  کھڑا کر دیا جاتا ہے ۔ کون سی گھڑی قبولیت کی ہے اور کون سی قیامت کی کون جانے ۔۔ یارب یہ کیا ہوگیا ؟ سعی کی جانب بڑھتے قدم روک دئیے تھے تو گویا اب کوئی سعی ،کوئی کوشش کام نہ آئےگی ۔ یا اللّہ آپ کو منانے کی؟؟؟
آنکھوں سے اشکوں کا سیلِ رواں جاری تھا ۔
یا اللّہ !آپ نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی بھاگ دوڑ پر زمزم کا چشمہ جاری کردیا تھا ۔ ہم پر بھی رحم وکرم کے چشموں کو  جاری کردیں ۔ہم خطا کار ہیں ۔ سیاہ کار ہیں ۔ ہمیں معاف فرمائیے ۔دعاؤں اور عبادات کوقبول فرما لیجئیے ۔ حرم کے  دروازے کھول دیجئیے ۔

دل رو رو کر فریاد کناں تھا ۔۔۔

یا اللّہ! یا قادر المقتدر ۔۔!

راندۂ درگاہ ہونا کیا ہوتا ہے اس کا مطلب آج سمجھ آرہا تھا ؟ یا اللّہ !آپ اس قدر ناراض ہوگئے ہیں کہ ہم کودھتکار دیا کہ جاؤ نہیں چاہئیں تمھارے سجدے ، وہ رکوع وہ قیام، ریاکاری اور دکھاوے سے بھرپور۔ جاؤ وہ تمھاری ریاضت اور یہاں تک آنے کی کوشش سوائے تھکن کے کچھ حاصل نہ کر پائے گی۔ دلوں میں بھرےبغض ، کینہ اور فتور میں کہاں ہے جگہ میری محبت کی ؟ ریاکاری اور دکھاوا۔ کبھی میری لگن یا مجھے پانےیا میری خوشی کیلئیے کونسا کام سر انجام دیا ؟ نبی پاک صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی ؟ دل یہ سوچ سوچ کر ایک سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا مگر اگلے ہی لمحے یہی دل ایک ضدی بچے کی طرح رورو کر یہ پکار رہا تھا کہ ۔۔۔

یا اللّہ ! یا رب ذوالجلال والاکرام ۔۔!!
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت پر یہاں آئے ہیں عاجزی سے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے مولا! تو نےاپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعلان کے زریعہ  ہمیں اپنے پاک گھر بلوایا ہے ، ہم تیرے در پر حاضرہیں، حاضر ہیں، اے اللہ! ہم حاضر ہیں۔ پھر یہ کیا ہوگیا ؟ ہم تو تن ، من، دھن سے حاضر ہوئے ہیں ۔ آپ کےخوشنودی اور رضامندی حاصل کرنے ۔اپنے گناہوں کے معافی مانگنے ۔ ہماری بد اعمالیوں کی اتنی بڑی سزاکہ ہم کو اپنے پاک گھر میں داخلے سے منع کردیا ۔۔ اللّہ معاف کردیں ۔ آپ ہم کو معاف نہیں کریں گے تو ہم کہاں جائیں گے ۔ یا اللّہ ہم کو رسوا نہ کیجئیے گا  ۔ آپ کی رحمت تو آپ کے غضب پر بھاری ہے ۔ یا اللّہ ہم  آپ کے پیارے نبی صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے امتی ہیں ۔ جیسے بھی ہیں ۔ ہم کلمہ گو اور آپ کا نام لیوا ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ ہماری غلطیوں پر ہم کو سزا دیکر نیست و نابود کر کے ایک نئی قوم لا سکتے ہیں جو بہتاطاعت گزار، فرمانبردار اور شکر گزار ہوگی ۔ آپ بے نیاز ہیں ۔ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ یا اللّہ ہم کو بچا لیں،ہمارے گناہ معاف کردیں اور اپنے گھر کے دروازے ہم پر بند نہ کیجئیے ۔آمین ثمہ آمین

دل کو کسی طرح قرار نہ تھا ۔۔
اللّہ تعالی کی ذات بے نیاز ہے ۔ وہ تو پیغمبروں کی بھی چالیس چالیس سال تک توبہ قبول نہیں کرتا ۔ وہ تویعقوب کو بھی یوسف سے جدا کر دیتا ہے ۔ پھر ہم کیا اور ہماری بساط کیا ؟
اللّہ تعالی کی ذات زمان ومکان کی حدود و قیود سے بالاتر ہے ۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیگا ۔-اسکا کوئی ہمسر  نہیں ۔ لفظِ کن کہتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل ہوجاتی ہے ۔وہ شہ رگ سے زیادہ قریب ۔ دل میں اٹھنے والے خیالات سے اچھے طرح واقف اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات سے مکمل با خبر ۔ وہ تو ہمہوقت ساتھ ساتھ ہے دکھ اس کے گھر سے دوری اور اس پابندیوں کا جو چشم زدن میں عائد کر دی گئی تھیں۔

زمزم پر پابندی لگا دی گئی تھی ۔ وہاں سے یہ سوچ کر چلے تھے کہ جی بھر کر اور پیٹ بھر کر زمزم سےسیراب ہونگے ۔ مگر لمحہ لمحہ تشنگی میں اضافہ ہوتا رہا ۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو یہاں کوئی دیوانہ واراپنے سر پر پانی ڈال رہا تھا تو کوئی تبرک کو پی پی کر سیراب ہورہا تھا ، کوئی اپنی بصیرت اور بصارت کوپر نور بنانے کیلئے اس کو عقیدت سے آنکھوں کو چلو بھر بھر کر ان کو پاک کر رہا تھا یہ پل بھر میں کیسی پابندیاں وجود میں آگئیں ۔ جسم اور روح کی تطہیر تو اللّہ کے کرم اور نیتوں پر منحصر ہے ۔ لاکھوں عاشقان رسول صلی اللّہ علیہ وسلم اپنی تشنگی بجھانے اور برکتیں حاصل کرنے کیلئے بے تاب تھے مگر یہاں زمزمپینے کی اجازت تھی اور نہ ہی ساتھ لے جانے کی ۔

کسے معلوم تھا کہ میں ایک تاریخ ساز دور کی عینی شاہد بن رہی ہوں۔ یہ جو کچھ صدیوں میں نہ ظہور پذیرہوا اور نہ ہی ایسا کچھ ہونے کاامکان تھا نہ تصورات میں اور نہ ہی گمان میں ۔میری آنکھوں کے سامنے ایکایک پل تاریخ کے صفحات میں تہ بہ تہ محفوظ ہوتا چلا جا رہا تھا ۔  ایک ایسے نوشتہ کی طرح جس کومستقبل میں ایک غیر معمولی واقعہ کے طور پر یاد رکھا جائیگا اور میں یہ سب دیکھ کر سوائے چشم دید گواہ بننے کے اور کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔۔

یہ تصور ہی سوہانِ روح تھا کہ ہم مکہ المکرمہ میں ہوں اور طواف نہ کر سکیں، سامنے کعبہ اللّہ ہو اور آپ عمرہ نہ ادا کر سکیں ۔  مکہ المکرمہ میں ہونے کا فائدہ ہی کیا۔ میں اتنی دور سے یہاں لائی گئی ہوں صرفیہ بتانے اور دکھانے کیلئیے کہ صرف یہاں تک پہنچنا تو کوئی کمال نہیں ۔ اذنِ عبادت اور توفیق ملنا اصل باتہے ۔ اس کا حکم نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ یہ سلطنت ِ وقت کے فیصلے کی آڑ میں دراصل قادر المقتدر کافیصلہ ہے ۔

ان تمام حالات سے گزرنے کے کچھ گھنٹے بعد جانے کیوں اک تھوڑا سا اطمینان دل میں در آیا وہ یہ کہ اگریہاں پہنچنے میں ایک آدھ دن کی تاخیر ہوجاتی یا صبح شام کا ہی فرق آجاتا تو ہم تو ایک بھی عمرہ نہ کرپاتے ۔ کم از کم آخری لمحوں میں بٹنے والی رحمتوں اور برکتوں کی خیرات اور بھیک سے ہم اپنے  دامن  توحتی المقدور بھر لئے تھے۔ اس بات سے یکسربے خبر کہ اب یہ دروازے بند ہوجائیں گے اور باقی کے دن حرمسے باہر تڑپتے اور بلکتے گزاریں گے ۔کسے معلوم کہ یہ قدم اب دوبارہ حرم میں داخل نہ ہوپائیں گے بھی یانہیں ۔زندگی اتنی مہلت دے گی بھی یا نہیں ؟؟

پھر بالآخر کار اعلان کیا گیا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جراثیم کش ادویات سے حرم کی صفائی کی جارہی ہے ۔
مگر کب تک ؟؟   ۔۔۔۔یہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔
ان حالات کے پیشِ نظر ہم نے بھی وہاں کے مفتی سے رابطہ قائم کیا اور ان کی ہدایت کے مطابق  دم دے دیا ۔گوکہ ہمارا قصور نہ تھا مگر غیر معمولی حالات و واقعات  کی وجہ سے ایسا کرنا لازم تھا ۔

گزرتے وقت نے لوگوں کے مزاج کو بیچینی اور اضطراب میں بدل دیا تھا ۔ یہ ایک کڑا وقت تھا اس وقت اپنےمزاج اور غصے پر قابو رکھنا بہت ضروری ۔ یہ ایک صبر آزما مرحلہ تھا ۔ مگر ہر کوئی اپنے ظرف اوربرداشت کے مطابق رد عمل ظاہر کر رہا تھا ۔

وہ زائرین  جو حالتِ احرام دو تین دن سے ملبوس  تھے اور کعبہ اللّہ میں جانے سے معذور مگر اس حالت میں بھی مسرور کہ اللّہ سے قربت اسی  لباس میں ہے اور اسی طرح  اگر دنیا سے رخصت ہوگئے تو عالی نصیب کا کیا ہی کہنا کہ حرم میں نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائیگی اور جنت المعلی کی پاک مٹی بھی نصیب ہوئی توپاک ہستیوں کے صدقے میں ان کی بھی آخرت سنور جائیگی۔وہ دنیا کی حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کئیےبیٹھے فقط اس انتظار میں کہ اب در کھلے ، داخلے کا اذنِ ملے اور وہ حاضری دیں۔ اور کچھ اس کے بر عکس اتنے بیزار کہ بس نہیں چل رہا یہ لباس اتار پھینکیں اور تمام پابندیوں سے جلد از جلد آزاد ہوجائیں۔کاش وہ سمجھیں کہ اسیری اوررہائی میں اصل فرق کیاہے ۔اسیری کا مزا اور رہائی کا پروانہ ہی تو اصل آزمائش ہے۔

کچھ عمرہ ادھورا رہ جانے پر جلد از جلد دم اور کفارہ دینے کے خواہاں تو کوئی اس کو حکومتی کھاتے میں ڈال کر اس ضروری واجبات سے صاف مکرنے کو تیار ۔کچھ صبر و رضا کا پیکر بنے اس کی رضا میں راضی تو کوئی ان معاملات سے عاجز آکر اڑتی ہوا سے لڑنے کو لیس۔

ایسے حالات میں صبر ، حوصلے اور برداشت سے کام لینا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا نظر آرہا تھا ۔
جیسے دھوبی میلے کپڑوں کو گھاٹ پر دھوتا ہے ، ان پر صابن ملتا ہے ، ڈنڈےسےکوٹتا ہے اور محنت کرنے کےبعد دھو کر کھنگال کر، اجال کر الگنی پر لٹکاتا ہے اور ان کو نکھرا دیکھ کر خوش ہوتا ہے تو شائد میں بھی اسی کیفیت سے گزاری جا  رہی تھی ۔ ہر وہ بات جو میرے مزاج ، طبیعت اور انا کے خلاف تھی مجھے دھیرےدھیرے اسکا مزا چکھایا جا رہا تھا ۔ میں اندر اندر سے کٹ رہی تھی ، پس رہی تھی ، مر رہی تھی ۔ میرا دلدھڑک دھڑک کر صرف اللّہ اللّہ کر رہا تھا ۔ منہ سے کوئی بات نکالنے کی مجاز نہیں تھی ۔ لہجہ اونچا کرنامیرے سارے اعمال برباد کرنے کے مترادف تھا ۔ ایک ایک لمحہ گزارنا بہت مشکل تھا۔مگر آزمائش میں  صبر کادامن تھامنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔
وقت اپنی رفتا ر سے گزر تا رہا۔
اذانیں اور نمازیں اپنے وقت پر ہوتی رہیں ۔ تمام نمازیں حرم کے باہر ہی ادا کرنے کا انتظام تھا ۔امام اورنمازیوں کی حالت نا گفتہ  بہ تھی ۔ امام صاحب کی قرات اور تلاوت کے دوران آواز رندھ رندھ   جاتی اورنمازیوں کی ہچکیاں بندھ جاتیں ۔۔۔ ہزاروں معتمرین اور زائرین  کا ہجوم حسرت و یاس آنکھوں میں لئیےمسجد الحرام کے باہر ہی رہتا کہ نہ جانے کب در کھلے اور ہم کو داخلے کا اذن ملے ۔۔۔

سفر وسیلۂ ظفر

میری نگاہوں کے سامنے تا  حد نظر مکہ شہر اپنی با نہیں پھیلائے تاریخ اپنے سینے پر سجائے منتظر تھا ۔میں کلاک ٹاور کی سب سے اونچی منزل  پر کھڑی تھی ۔ یہ سوچ کر اور نیچے کا نظارہ دیکھ کر جھر جھریاور خوف سا آگیا ۔
میں شاید اس منظر کیلئے تیار نہ تھی ۔ اگر ریلنگ مضبوطی سے تھام نہ لیتی تو شاید لڑ کھڑا کر گر جاتی۔سنبھلنے میں کچھ  وقت لگا۔

ڈرتے ڈرتے میں نے نیچے جھانکا تو  کعبہ اللّہ اور اس کا خالی صحن نظر آیا ۔۔۔یہ نظارہ نا قابلِ یقین تھا ۔کلیجہ منہ کو آنا کیا ہوتا ہے ؟ یہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا ۔ مجھے اپنا آپ کعبہ اللّہ کے سامنے اتنی بلندی پہموجود ہونا بے ادبی سا محسوس ہوا ۔ اور میں پیچھے ہٹ گئی ۔ دھڑکنوں کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی تھی ۔

Jabl e Noor/Hateem zamzam water/Umra Makkah Shareef /Milao Haath

پھر سامنے  نظر اٹھائی تو جدید اور گنجان آباد مکہ شہر نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کر لی اور دھیرےدھیرے میرے ذہن کے پرت کھلتے چلے گئے  ۔ جب میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے ہونگے تو مکہ کیسے اپنے نصیبوں پہ جھومتا ہوگا ۔۔۔انہی فضاؤں میں ننھےحضور صلی اللّہ علیہ وسلم کی کلکاریاں گونجی ہونگیں ،دائی حلیمہ رضی  اللّہ تعالی عنہ  انہی گلیوں ،انہی رستوں پہ چل کر حضورتک پہنچی ہونگی ، حضرت آمنہ نے اپنا لعل کس  دل  سے ان کے حوالے کیا ہوگا ۔ یتیمی کا دکھ اٹھائے میرےحضور صلی اللّہ علیہ وسلم کبھی دادا اور کبھی چچا کی انگلی پکڑ کر چلتے ہونگے ، صادق اور امین کا لقب پانے والے غریبوں اور مسکینوں کی خبر گیری کرتے اور پھر آپ صلی اللّہ علیہ وسلم  کی امانت اور دیانتداریکے چرچے ۔۔حضرت خدیجہ رضی اللّہ تعالی عنہ سے نکاح یہ سب کچھ اس شہر مکہ میں پیش آیا تھا ۔ مکہکی زمین اپنے نصیبوں پہ رشک کرتی ہوگی جب جب اور جہاں جہاں رحمت العالمین صلی اللّہ علیہ وسلم قدمرنجہ فرماتے ہونگے ۔۔

ایک  طرف جبل نور تھا جہاں غارِ حرا واقع ہے  اور وحئ الہی اور ہدایت کا سر چشمہ ،   مکہ کا کھلا صاف نکھرا آسمان ۔۔۔جہاں کبھی حضرتِ جبر ائیل اپنے پر پھیلائے کھڑےہوتے  ہونگے ۔ ۔۔اقرا کا سبق اور پھرمعراج کا سفر ۔۔ز مانے کی  حدود و قیود سے ماورا جبرائیل امین اور براق کے ذریعے  بیت اللّہ سےبیت المقدس اور پھر عرشِ معلی تک بامِ عروج پہ جا پہنچا تھا ۔  قریش مکہ کی مخالفت اور مظالم ۔۔حکمِ الہی سے  ہجرتِ مدینہ  ۔۔اور پھر فتح مکہ ۔۔
یہ گرمی سے تپ کر سیاہ رنگت ہونے والے یہ پہاڑ جو صدیوں کی داستانیں اور سر بستہ راز اپنے اندرچھپائے خاموش کھڑے ہیں۔ یہاں کا زرّہ زرّہ تمام زمانوں اور واقعات کا عینی شاہد ۔۔

جنت المعلی کا وہ مبارک قبرستان جہاں حضرت خدیجہ رضی  اللّہ تعالی عنہ  اور حضور کے پیارے چچاحضرت ابو طالب اور دیکر کئی صحابۂ کرام اور مبارک ہستیاں آسودۂ خاک ہیں ۔ اللّہ تعالی ان اب پر اپنا رحموکرم فرمائے ، سب کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثمہ آمین ۔

Jannat-Al-Mu’alla/Jabl e Noor/Hateem zamzam water/Umra Makkah Shareef /Milao Haath

مناسک حج کے ارکان کی ادائیگی کیلئے ضروری مقامات منی ، مسجدِ نمرہ ،عرفات کا میدان، جمرات ،مزدلفہ ،سب میری نگاہوں کے سامنے تھے  ۔

میری نگاہیں وہ نا دیدہ جگہیں تلاش کر رہی تھیں جو وقت اور جدید تعمیر کے ہاتھوں خرد برد ہو گئی ہیں لیکن اسلامی تاریخی کتابوں نے تصورات کے زریعے وہ مقامات میرے ذہن پر نقش کردئیے تھے  ۔ مثلاً

مقبرہ شبیکہ۔ وہ قبرستان جہاں بیٹیاں پیدا ہوتے ہی دفنا دی جاتی تھیں ۔ ان بچیوں سے تعزیت کرنی تھی ۔میرے نبی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد مرحبا کہ انہوں نے ہم عورتوں کو  جینے کا حق دیا اور عزت کامقام دلایا ۔ ورنہ آج شاید میرا وجود یہاں نہ ہوتا   ۔میرے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم  کا احسانِ عظیم ہے ۔
شعب ابی طالب کی گھاٹی،جہاں مسلمان تین سال تک قریش کے ظلم و ستم سے بچنے کیلئیے محصور رہےتھے۔مسجد الشق القمر، جہاں پیارے نبی نے انگلی کے اشارے سے چاند کو دو لخت کر نے کا معجزہ پیش آیاتھا ۔
مسجد جن ، جہاں جنوں سے بیعت لی گئی تھی ۔ اور دیگر کئی مقامات جو اب جدید مکہ میں کہیں گم ہوچکے ہیں ۔

میرا ذہن مسلسل پیچھے کی طرف دوڑ رہا تھا ۔ ظاہری طور میں  حاضرِ تھی مگر یہ حال مجھے اس سنہرےماضی  میں لے گیا  جہاں مذہبِ اسلام کی بنیادیں  دعوتِ دین ، قربانیوں ، ہجرتوں، سخت کاوشوں ، مخالفقوتوں سے بر سر پیکار ہوکر مضبوط ہورہی تھیں ۔ ایک ایسا سچا مذہب جو تمام جھوٹے خداؤں کا خاتمہ ،  برائیوں کی بیخ کنی ، انسانیت کی بھلائی کا سر چشمہ ، دنیا کے لوگوں کو اللّہ اور اس کے رسول صلی اللّہعلیہ وسلم کی پہچان کروانے ، مقصد حیات متعین کرنے اور دنیا اور آخرت سنوارنے دنیا میں آیا تھا ۔ رب کالاکھ لکھ شکر ہے کہ اس نے ایمان کی دولت سے نوازا ورنہ ہم کہاں کہاں بھٹک کر راندۂ درگاہ ہوگئے ہوتے ۔شکر الحمد للّٰہ ۔۔

دھیرے دھیرے اندھیرا بڑھ رہا تھا اور مغرب کی اذان کا وقت ہوا چاہتا تھا ۔ مین ان نظاروں کو اپنی نگاہوںاور دل سمیٹ کر نیچے اتر آئی ۔۔

نماز عشاء کے بعد ائر پورٹ روانگی تھی ۔واپسی کا لمحہ آگیا تھا  ۔میں طواف الوداع  ادا  نہ کر سکی تھی ۔افسوس اور ملول دل کے ساتھ ٹیکسی کا انتظار تھا ۔ بہت حد تک صبر اور قرار آبھی گیا تھا یہ سوچ کر کہ جو رب کی رضا ۔
جب سب کچھ اللّہ پر چھوڑ دیں تو پھر معجزے رونما ہوتے ہیں ۔ میں نے سامنے نظر دوڑائی تو عطار کی دکان نظر آئی ۔ ایک لمحہ کو کچھ سوچ کر مسکراہٹ لبوں پر آئی اور میں اس دکان میں داخل ہوگئی ۔ دکاندار سےغلافِ کعبہ کا عطر طلب کیا ۔ اس نے مجھے نہایت خوبصورت پیکنگ میں  مشامِ جاں عطر پیش کیا ۔ اس کیخوشبو کو رگ و جان میں بسا کر سکون سا آگیا ۔ میں نے قیمت ادا کی اور دونوں ہاتھوں میں بہت احتیاطسے اٹھا کر چلی آئی ۔ میرے رب نے میرے دکھ کا کچھ تو مداوا کر ہی دیا تھا ۔

میں اب خوشبو ؤں کے حصار میں قید جدہ ائر پورٹ کی طرف رواں دواں ہوں ۔ مسجد الحرام کے میناروں کوالوداعی نظروں سے دیکھتے ہوئے، دعائیں کرتے اور ان دعاؤں اور عبادات کی قبولیت  کی مناجات کرتے ، اسسوچ اور امید کے ساتھ کہ ان شا اللّہ جلد ہی اک دن میرا رب راضی ہوگا اور حرم کے دروازے  کیلئے ضرورکھلیں گے ۔ پھر سے عمرہ اور حج کی رونقیں بحال ہونگی ،ان شا اللّہ فرزندان اسلام اور عشاقِ رسول صلی اللّہ علیہ وسلم کعبہ اللّہ کر گرد دیوانہ وار طواف کریں گے ۔ صفا اور مروہ کے درمیان اللّہ کے رضا حاصل کرنے کیلئے دوڑیں گے ۔ جی بھر کر زمزم کے جرعے نوش کریں گے اور اللّہ تعالی کے رحم و کرم کے دریا جلدرواں دواں ہونگے ۔۔۔ جلد اور بہت جلد ان شا للّٰہ ۔ میں مایوس نہیں  بس حرفِ کن کے انتظار میں ہوں ۔۔۔۔

Jannat-Al-Mu’alla/Jabl e Noor/Hateem zamzam water/Umra Makkah Shareef /Milao Haath

Comments (1)


  1. اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ 🙏 🙏 🙏 کیا کہنے ہیں سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ

leave your comment

Leave a Reply to Maryam Cancel Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top